لڑائی جھگڑا 18

عفت میں خلل ڈالا گیا جس پر درخواست گزاری گئی

گزارش ہیکہ سائلہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ایریا آفس میں بطور آفس ایڈمن و کیشیر کا کام سر انجام دیتی ہے میرے ایریا مینجر صاحب نے رینول کیش جمع کروانے کے لئے 2،30،000 روپے دے کر گئے میں کیش گنتی کر رہی تھی کہ ذوالقرنین حیدر ہمراہ دو ساتھی سرکاری ا یریا آفس میں آئے اور آتے ہی میرے ساتھ دست درازی کی اور مجھے اغوا کر نے کی کوشش کی اور میرے مزاحمت کرنے پر مجھے تھپڑ مارے اور میرے نازک اعضاء پر پاوں کے ساتھ ٹھڈے مارے اور میرے ساتھ گریبان و دست درازی کی اور میرے ساتھ زبردستی کی اور نازک اعضاء پر مارا اور سینے سے پکڑ کر کھینچتے رہے میرے کپڑے پھٹ گئے میرے آفس بوائےنے مداخلت کرتے ہوئے ان سے چھڑوا کر کمرے میں بند کردیا اور کنڈی لگا دی ذوالقرنین حیدر اور ملازم نمبر 2 اور3 نے دروازہ زبردستی توڑنا شروع کر دیا آہنی کرسی لگنے سے دروازہ ٹوٹ گیااتنے میں 10 کس نا معلوم افراد بھی آگئےاور دفتر میں توڑ پھوڑ شروع کر دی چشم دید گواہان 1 عبدالروف ولد عبدالغفور سکنہ چک نمبر 445/ ای بی بورےوالا ضلع وہاڑی 2 راؤ عتیق الرحمان چک نمبر 331 ای بی بورےوالا ضلع وہاڑی نے منت سماجت کر کے جان بخشی کروائی اور جاتے ہوئے دفتر سے نقدی 2،30،000 روپے چھین کر لے گئے

گزارش ہیکہ سائل 433 ای بی کا مستقل سکونتی ہے ضعیف العمر ہوں مورخہ 03.11.20 بوقت تقریباً 5:30 بجیشام میرا پسرم حقیقی ساجد علی میرے پوتے بعمر محمدحسنین بعمر 1/2-1 سال کو دوائی دلوانے کے لیے بوریوالہ شہر آرہاتھا جب بنگلہ نہر سے تھوڑا آگے پہنچا تو اسی دوران الزام علیہان متذکرہ بالا بسواری موٹرسائیکل ہائے پیچھے سے آگئے الزام علیہان نے موٹرسائیکل سے ٹکر مارکرپسرم کی موٹرسائیکل کو روک لیاالزام علیہ کاشف مسلح پسٹل نے للکارامارا کہ آج اسکو زندہ نہ چھوڑنا جس پر الزام علیہ رضوان مسلح آہنی پلاس نے وار کیا جو پسرم نے بچاؤ کے لیے ہاتھ آگے کیا جو دائیں ہاتھ پر لگا الزام علیہ مقصود نے سوٹے کا وار کیا جودائیں آنکھ پر لگا پسرم زمین پر گر پڑا اور دمعوم علیہ محمدحسنین بھی گرگیا۔شورواویلہ سن کر گواہان مسمیان 1۔محمد علی ولدعبدالرشید قوم جٹ 2۔اسماعیل ولد عبدالرشید قوم جٹ سکنائے دیہہ موقع پرآگئے جنہوں نے منت سماجت کرکے جان بخشی کروائی وجہ عناد یہ ہیکہ الزام علیہان متذکرہ بالا کے ساتھ رقبہ کا تنازعہ چل رہاہے اسی رنج کی بناء پر الزام علیہان نے باہم صلاح مشورہ ہوکر پسرم کارستہ روک کرناحق مضروب کرکے زیادتی کی ہے درخواست پیش کرتا ہوں کاروائی کی جائے۔

گزارش ہیکہ سائل 94/4 آئی بلاک کارہائشی ہےاورMCSکاسٹوڈنٹ ہے مورخہ 14.11.20 بوقت 12:30 بجے دن سائل بسواری موٹرسائیکل بازار سے گھرآرہاتھا کہ جب لاری اڈا چیچہ وطنی روڈ پر پہنچاتو پیچھے سے ایک پک اپ نمبریMNT/4159آئی اور موٹرسائیکل کوٹچ کیاجس میں الزام علیہان مندرجہ بالا سوار تھے میں الزام علیہ محمدشہزادجوکہ ڈرائیونگ کررہاتھا سے کہا کہ دھیان سے چلاؤ جس پر جملہ الزام علیہان طیش میں آگئےاورگاڑی سے نیچے اترآئےاورمجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔الزام علیہ راشد محمود نے مکامارا جو میری بائیں آنکھ کےنیچے لگااورخون بہناشروع ہوگیا۔ الزام علیہ محمدشہزاد نے مکامارا جو میرے منہ پر دائیں جانب لگا۔جس سے میری دائیں طرف کا دانت ٹوٹ گیامیں زمین پر گرگیا۔جملہ الزام علیہان نے مجھے ٹھڈوں سےمارناشروع کردیا۔شورواویلہ پر کافی لوگ و گواہان 1۔دلاورحسین ولد راناحسن قوم راجپوت سکنہ سیٹلائٹ ٹاؤن 2۔برادرم عثمان اشرف موقعہ پرآگئےاور الزام علیہان کی منت سماجت کرکے میری جان بخشی کروائی۔درخواست پیش کرتابمطابق قانون کاروائی عمل میں لائی جاوے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں