لڑائی جھگڑا 11

ہوائی فائرنگ ہونے پر درخواست گزاری گئی

گزارش ہےکہ میں زاہد آباد بورے والا کی رہائشی ہوں اور خانہ داری کرتی ہوں سائلہ کی شاد ی سال 2011میں محمد افضال سے ہوئی تھی سائلہ اپنے خاوند کے گھر آباد رہی سائلہ کے سسرال کی جوائنٹ فیملی ہے ملزمان مندرجہ بالا محمد اقبال اور شفقت بھی محمد افضال کیساتھ اسی گھر میں رہتے ہیں سال 2019 میں میرے خاوند اور میرے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے اورمیں اپنے والدین کے گھرآگئی تقریباً ایک ماہ قبل محمد افضال میرے والدین کی منت سماجت کر کے مجھے اپنے گھر لے گیا مورخہ 17.09.2022کی رات 10بجے ملزمان محمد اقبال اورشفقت نے میرے خاوند محمد افضال کو بھینسوں والے ڈیرے پر سونے کے لیے بھیج دیا اور محمداقبال نے مجھ سے میری مرضی کے خلاف زبردستی زنا ء بالجبر کیا اور شفقت نے اپنے موبائل پر ویڈیو فلم بنالی دونوں ملزمان نے مجھے قتل کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو بتایا تو تمہاری ویڈیو وائرل کردیں گے اورتمہارے خاوند سے تمہیں طلاق

دلوادیں گے اگلی رات مورخہ 18.09.2022 کو رات کو پھران ددنوں ملزمان اقبال اورشفقت نے میرے ساتھ باری باری زنا ء بالجبر کیا میں نےصبح اپنے خاوند محمدافضال کو سارا وقوعہ بتایا اور اپنے والدین کے گھر آگئی اور اپنے والد محمداسلم ولد حاجی محمد اور برادرم محمد طاہر ولد محمد اسلم اور محمد عمران ولد محمد شریف اقوام آرائیں وغیرہ سکنہ دیہہ کو سارا وقوعہ بتایا اور ملزمان سے پنچائت کی ملزمان نے روبروگواہان و پنچائت اقرار جرم کیا اور جرم تسلیم کر تے ہوئے معافی مانگی ملزمان آج تک صلح کے لیے دباؤ اور منت سماجت کرتے آئے ہیں لیکن میں نہ مانی ہوں میں اپنی عزت خراب ہونے کے ڈر کی وجہ سے اور اپنی بیٹی اور بیٹوں کے مستقبل خرا ب ہونے کے ڈر کی وجہ سے اب تک خاموش تھی برائے مہربانی ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کاروائی کی جائے

گزارش ہے کہ بندہ طالب علم ہے اور گلی نمبر2 شاہ فیض کالونی کا رہائشی ہے مورخہ 16.10.22 تقریباً 06:00 بجے شام اپنی رہائش گاہ پر موجود تھااور مسمیان اصغر علی ولد شبیر حسین اور عرفان حیدر ولد نذیر احمد بھی ہمارے ڈرائنگ روم میں میرے والد محمد یٰسین کی تیمار داری کے لیے آئے ہوئے تھے کہ اچانک الزام علیہ ہمارے گھر کے بیرونی دروازے پر اینٹوں سے حملہ آور ہوگیا اور غلیظ گالیاں دینے لگا جس پر میں فوراً باہر گیا تو دیکھا کہ گھر کا بیرونی گیٹ ایک سائیڈ سے ٹوٹا ہوا تھا وجہ پوچھنے پر الزام علیہ انجم مزید طیش میں آگیا اور آہنی راڈ سے حملہ آور ہوگیا میرے والد نے اسے روکنے کی

کوشش کی تو الزام علیہ نے جان سے ماردینے کی نیت سے آہنی راڈ سے ان کے سر کی طرف وار کیا جو خوش قسمتی سے اصغر علی نے راڈ قابو کرلیا اور الزام علیہ نے دیکھتے ہی دیکھتے میرے والد کو دھکا دے دیا اور والدم گر گئے یہ امر قابل ذکر ہے کہ میرے والد دل کے والوز بند ہونے کی وجہ سے چند دن پہلے Stentsڈلوائے ہیں اور ڈاکٹرز نے مکمل بیڈ ریسٹ کرنے کی ہدایت کی ہے سائل اور ہمرائیاں اسے بار ہا ہٹاتے اور روکتے رہے پر الزام علیہ جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا جبکہ الزام علیہ کو بخوبی علم ہے کہ والدم شدید بیمار ہیں وقوعہ ہذا ہمارے علاوہ دیگراہل علاقہ نے بھی بچشم خود دیکھا ہے الزام علیہ نے والدم پر جان سے مارنے کی نیت سے حملہ کرکے اور گیٹ ٹوڑ کر سخت زیادتی کی ہے وجہ عنادیہ ہے کہ الزام علیہ شراب اور نشے کا عادی ہے اور قبل ازیں اکثر محلہ میں غل غپاڑہ کرتا ہے جسکو والدم ودیگر اہل علاقہ نے متعدد بار منع کیا اس رنج کی بناء پر الزام علیہ نے وقوعہ سرزد کیا ہے

گزارش ہے کہ میں گلی نمبر 14 مجاہد کالونی کا رہائشی ہوں محنت مزدوری کرتا ہوں کہ مورخہ 09.10.22 کو میں اندھا موڑ مجاہد کالونی میڈیکل سٹور سے ہمراہ محمد عدنان ولد محمد رمضان قوم سندھو جٹ سکنہ مجاہد کالونی آئے بوقت قریب 1/10 بجے دن میرے بھائی محمد شہباز جو کہ بوریوالہ ہسپتال فوارہ چوک ملازم ہے نے کال کی کہ الزام علیہ محمد ولید ملاح ہمراہ 3 کس نا معلوم کے لڑائی جھگڑا کرنے آئے ہیں کال سن کر میں معہ محمد عدنان بوریوالہ ہسپتال فوارہ چوک پہنچے ہی تھے کہ الزام علیہان محمد ولید وغیرہ نے جان سے مار دینے کی غرض سے سیدھے فائر کرنے شروع کردئیے میں معہ محمد شہباز برادرم ہسپتال کے گیٹ کے پلر کی اوٹ لے کر اپنی جان بچائی کہ الزام علیہان محمد ولید ملاح وغیرہ نے ہمراہی محمد عدنان کو پکڑ لیا اور اپنے پسٹل کے بٹ مارنے شروع کر دیئے جو محمد عدنان کے ناک پر اور بائیں ہاتھ کی چیچی پر لگے شور واویلا فائرنگ کی آواز سن کر مسمیان غلام مصطفٰی ولد محمد رفیق۔ محمد فیضان ولد محمد طارق و دیگر لوگ موقع پر آ گئے میں نے اپنے موبائل سے 15 نمبر پر کال بھی کر دی جس وجہ سے الزام علیہان بالا فائرنگ کرتے اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے بسواری موٹر سائیکل فرار ہو گئے الزام علیہان بالا نے جان سے مار دینے کی غرض سے سیدھے فائر کر کے محمد عدنان کو نا حق پسٹل کے بٹ مار کر مضروب کر کے زیادتی کی ہے میں نے محمد عدنان کا میڈیکل نمبری 1098/22 ہسپتال THQ بوریوالہ سے کروا رکھا ہے انصاف دیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں